
پشاور(ویب ڈیسک )خیبر پختونخوا میں وبائی امراض کنٹرول ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ ہوگیا جس کے تحت قرنطینہ سے بھاگنے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد ہوگا۔آرڈننس کے مطابق کورونا کی وجہ سے لوکل گورنمنٹ الیکشن کا انعقاد بھی ممکن نہیں ہو سکے گا، مالک مکان کرائے دار کو نہیں نکالے گا جبکہ 80 گز کے مکان کا پانی کا بل نہیں لیا جائے گا۔
آرڈیننس کے مطابق کورونا کے متاثرین اپنی ہسٹری اور جن افراد سے ملےوہ دینے کے پابند ہوں گے، کوئی بھی مالک مکان کرایہ دار کو گھر سے نہیں نکالے گا ، 800 اسکوائر فٹ والے فلیٹ کے مالک بھی پانی کے بل سے مستثنیٰ ہوں گے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا کا زیادہ دباوجون کے وسط تک سامنے آئے گا۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آج وزارت سائنس کی ایکسپرٹ کمیٹی نے تین بنیادی نکات پر رائے دی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اجتماعی مدافعت کا تصور انتہاءخطرناک ہو سکتا ہے اس طرح کی کوئی حکمت عملی ہر گز نہیں اپنانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کورونا زکام نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، رائے تو ہر شخص دے سکتا ہے۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں وزیر اعظم کی اسمارٹ لاک ڈاون پالیسی ہی مسئلے کا حل ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر احتیاط کے بغیر لاک ڈاون کھولا گیا تو بہت نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment